شاید میں کائنات کا پہلا شعور ہوں

Latest

Aside

Image

greencardus.net/index.html

ImageImageImage

greencardus.net/index.html

Image

Neelofer Syed Immigration Attorney

Immigration problems? Look no further. Just click here http://www.greencardus.net/index.html Full Service, Multilingual, Affordable Representation across USA. International Law firm. Payment Plans available for those who qualify.
http://www.greencardus.net/index.html

غزل منصور آفاق

مموسموں کا رزق دونوں پر بہم نازل ہوا 
پھول اترا شاخ پراور مجھ پہ غم نازل ہوا 

اپنے اپنے وقت پر دونوں ثمرآور ہوئے 
پیڑ کو ٹہنی ملی مجھ پر قلم نازل ہوا 

اوس کی مانند اُترا رات بھر مژگاں پہ میں 
پھر کرن کا دکھ پہن کر صبح دم نازل ہوا 

میں نے مٹی سے نکالے چند آوارہ خیال 
آسمانوں سے کلامِ محترم نازل ہوا 

یوں ہوا منصور کمرہ بھر گیا کرنوں کے ساتھ 
مجھ پہ سورج رات کو الٹے قدم نازل ہوا 

غزل ۔ منصور آفاق

ممیں بدنصیب تھا احمق تھا پیش و پس میں رہا 
تمام رات کوئی میری دسترس میں رہا 

میں ایک شیش محل میں قیام رکھتے ہوئے 
کسی فقیر کی کٹیا کے خاروخس میں رہا 

سمندروں کے اُدھر بھی تری حکومت تھی 
سمندروں کے اِدھر بھی میں تیرے بس میں رہا 

کسی کے لمس کی آتی ہے ایک شب جس میں 
کئی برس میں مسلسل اسی برس میں رہا 

گنہ نہیں ہے فروغ بدن کہ جنت سے 
یہ آبِ زندگی ، سر چشمہ ء ہوس میں رہا 

مرے افق پہ رکی ہے زوال کی ساعت 
یونہی ستارہ مرا ، حرکت ء عبث میں رہا 

کنارے ٹوٹ گرتے رہے ہیں پانی میں 
عجب فشار مرے موجہ ء نفس میں رہا 

وہی جو نکھرا ہوا ہے ہر ایک موسم میں 
وہی برش میں وہی میرے کینوس میں رہا 

قدم قدم پہ کہانی تھی حسن کی لیکن 
ہمیشہ اپنے بنائے ہوئے قصص میں رہا 

جسے مزاج جہاں گرد کا ملا منصور 
تمام عمر پرندہ وہی قفس میں رہا