تازہ غزل

اپنی گڑوی اندھیرے میں بھی گڑوی والی بجاتی رہی
میری خاطر توجہ کی دوشیزہ تالی بجا تی رہی

کوئی آواز کمرے میں روتی رہی خامشی اوڑھ کر
میز پرایک سکہ مری بے خیالی بجاتی رہی

میں کہ قوس ِ قزح پر بڑی دیر تک رقص کرتا رہا
وہ پہاڑی کی چوٹی پہ پیتل کی تھالی بجا تی رہی

ذہن جس چائے خانہ میں بنتا رہا گیت تنہائی کے
ایک لڑکی وہیں کافی کی خالی پیالی بجاتی رہی

لوگ مرتے رہے بھوک کی آگ سے لاشیں اٹھتی رہیں
موت کا کہروا گائوں کی خشک سالی بجاتی رہی

اینٹیں گرتی رہیں ،دھول جمتی رہی وقت چلتا رہا
مرگ کا ڈھول آثار کی خستہ حالی بجاتی رہی

ہیرو شیما کا وحشی سخن بھول کر،ایٹمی بم لئے
جنگ کا طبل اپنی خوئے لا ابالی بجاتی رہی

ہائے قسمت کہ منصور تھی خواب سے آنکھ باہر کہیں
گھنٹی دروازے کی نیند میں بھولی بھالی بجاتی رہی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s